یہ کہانی میں نے ایک ڈرامہ جو جیو ٹی وی پر چل رہا تھا “دل ہے چھوٹا سا” اُس سے آیئڈیا لے کر لکھی ہے لکین ذرا اپنے اسٹائل سے اچھی بری فیصلہ آپکا ۔۔۔۔۔۔۔ لکین ڈرامہ تو مست ہے
بھائی یہ آپ کیا بول رہے ہیں آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہو۔ عاطف تو بھائی کی بات سن کر ہی تڑپ اُٹھا تھا
بات تھی کچھ ایسی ہی کے اُس کا تڑپنا اتنا بے وجہ بھی نہیں تھا عاطف کی فمیلئ میں صرف وہ اور ایک اُس کا بھائی باقر ہی تھے اماں ابا عاطف کچھ سال پہلے چل بسے تھے۔ باقر اور عا طف کی عمر میں دس سال کو فرق تھا جیس کی وجہ یہ تھی کے باقر کی پئدئیش کے بعد اُن کی اماں کو کچھ کملیکیشنز ہو گئی تھی ڈاکڑں نے لمبا وقفہ دینے کا بولا تھا اس لیے باقر کے پیدا ہونے دس سال بعد عاطف اس دنیا میں ایا تھا ۔عا طف کی عمر اس وقت 25 تھی جب کے باقر کی 35۔ اماں ابا کے مرنے کو بعد عاطف سب چھوڑ چھاڑ باقر کے پاس دوبئی میں ہی آ گیا تھا۔ اماں ابا کی زندگی میں ہی باقر کی شادی اُن کی ایک کزن جس کا نام شمع تھا اور جو باقر کی ہم عمر ہی تھی اُس کے ساتھ کر دی گئی تھی اتفاق یہ تھا کے شمع بھابی کے بھی اماں ابا اب اس دنیا میں نہیں تھے اور اُن کا بہن بھائی بھی کوئی نہیں تھا یعنی اُن تینوں کی کل ملا کر فیملی بس وہی تھے اور ساتھ باقر کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا تھا بیٹی بڑی تھی جو 7 سال کی تھی اور بیٹا پانچ سال کا تھا۔ باقر کی شادی کو ابھی 9 سال ہو گئے تھے۔ ہو کچھ یوں کے۔
کچھ دن پہلے ہی ایک معمول کی لڑائی میں باقر نے شمع کو غصے میں آکر طلاق دے دی تھی۔ جب تک باقر سھبلتا وہ سب کچھ بول چکا تھا اُن کے گھر میں تو مانو سانپ سونگھ گیا تھا۔ شمع کا اس دنیا میں اُن کے علاوہ کوئی نہیں تھا اس لیے وہ جاتی بھی تو کدھر اور اب مسلہ باقر کے بچوں کا بھی تھا ۔ باقر کے ساتھ ساتھ شمع تو پریشا ن تھی ہی لکین عاطف بھی کافی پریشان تھا بچوں کو ابھی تک کچھ پتہ نہیں تھا لکین گھر کا ماحول دیکھ کر وہ بھی کافی سمہے ہوئے تھے۔
باقر نے ایک کسی جاننے والے سے مشورہ لیا تھا اور اُس کے مطابق باقر کی شادی اب ٹوٹ چکی تھی اور اب صرف اسی صورت میں شادی واپس ہو سکتی تھی کے پہلے شمع اپنی عدت پوری کرے اور پھر کسی اور سے شادی کرے اور پھر اُس سے طلاق لے کر واپس عدت پوری کرے اور پھر باقر سے شادی کرے۔اور سب سے ضروری بات کے دوسرے مرد سے صرف نکاح کر کے طلاق نہیں لے سکتے بلکے اُن کو جسمانی تعلق چاہے وہ ایک رات کا ہی کیوں نہ یو بنانا ضروری ہے۔
باقر نے بہت سوچا کے ایسا کون آدمی ہو سکتا ہے جس کو وہ اس کام کے لیے بول سکتا ہے۔
بہت سوچنے کے بعد صرف ایک ہی نام اُس کے ذہن میں آیا تھا اور وہ تھا اُس کا اپنا بھائی عاطف جس پر وہ اعتبار بھی کر سکتا تھا اور جو اُس کے اس بورے وقت میں اُس کے کام بھی آسکتا تھا لکین وہ یہ بات کرنے سے گھبرا رہا تھا کیوں کے اُس کو ریکشن معلوم تھا۔ اور پھر وہی ہوا عاطف اُس کی بات سنتے ہی بھڑک اُٹھا تھا۔
دیکھ میرے بھائی ایک تو ہی تو جس پر میں اعتبار کر سکتا ہوں اگر تم اس بورے وقت میں میرا ساتھ نہیں دو گئے تو اور کون دے گا میں مانتا ہوں میری غلطی ہے اور سزا تم سب لوگوں کو مل رہی ہے لکین میرے بھائی مجھے میری غلظی سدھارنے کو موقع دے ۔ باقر نے عاطف سے منت کرتے ہوئے بولا
لکین بھائی سوری آپ میری جان مانگ لو میری جان خاظر ہے لکین میں یہ نہیں کر سکتا ۔ اُپ خود سوچو میں کیسے کر پاو گا یہ میری بھابی ہیں بہت چھوٹی عمر سے میں اُن اپنا گھر کا ایک بڑا فرد دیکھتا ایا ہوں۔ عاطف نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
باقر نے ہاتھ جھوڑ لیا اور بولا
عاطف میرے ہاتھوں کی طرف دیکھ یار مجھے اور ذلیل ہونے سے بچا لے۔
عاطف کا دل بھی روتے بھائی کو دیکھ کع بھر آیا اور اُس نے اُس کے ہاتھ پکڑ لیے اور بولا
بھائی ایسا مت کرو میرے ساتھ اور تم خود سوچو کیا بھابی کے لیے یہ سب ٹھیک ہو گا وہ کیا یہ سب کر پائے گی۔
باقر بولا ۔ شمع سے بات کر لی ہے میں نے وہ راضی ہے۔
عاطف ہاتھ چھوڑ کر بولا پتہ نہیں تم لوگ کیا چاہتے ہو جو دل میں آتا ہے کرو اور باہر نکل گیا ۔
باقر شمع کے پاس آیا وہ بچوں کے پاس لیٹی ہوئی تھی
ایسا نہیں تھا کے باقر شمع کو پسند نہیں کرتا تھا لکین اُس کو غصہ پر کنٹرول نہیں تھا اور اُس دن بھی اُس نے غصے میں یہ سب بول دیا۔ اُس نے شمع کو بتایا کے عاطف مان گیا ہے۔
اگلے کچھ دنوں میں شمع کی عدت پوری ہوتے ہی عاطف کا نکاح شمع کے ساتھ کر دیا گیا۔۔۔
بچے سو رہے تھے کمر ے میں اور سارے ڈرامے کو اُن سے پوشیدہ رکھا گیا تھا
باقر نے وہ پوری رات انگاروں پر بسر کی ۔ صبع کی اذان شروع ہوئی تو شمع کمرے سے باہر آئی باقر جو باہر ہی بیٹھا تھا اُس کی طرف دیکھنے لگا شمع کو اُس پر غصہ تو بہت تھا لکین وہ اُس کی خالت بھی دیکھ رہی تھی اور یہ
بھی جانتی تھی کے اُسکا اس گھر علاوہ کوئی ٹھکانہ بھی نہیں اس لیے اُس کا ساتھ دے رہی تھی۔وہ باقر کے دیکھنے کا مطلب صاف سمجھ رہی تھی۔
اُس نے بولا۔۔ وہ رات کو جاتے ہی اپنا کمبل لے کر صوفے پر سو گیا تھا۔
باقر بولا ۔ کیا مطلب میں نے تم کو سب سمجھایا بھی تھا
شمع کو بھی غصہ آ گیا وہ آواز کو دباتے ہوئے بولی ۔
تم نے سمجھ کیا رکھا ہے مجھے تم کیا چاہتے تھے مجھ سے میں کیا کرتی وہ میرے سے دس سال چھوٹا ایک بچا ہے جب سے وہ پیدا ہوا ہے میرے لیے ایک بچہ ہی ہے اور اب پچھلے دس سالوں سے میرے لیے وہ میرے شوہر کا چھوٹا بھائی ہے اور تم چاہتے ہو کے میں پہلی ہی رات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شمع نے آگے بات اُدھوری چھوڑ دی باقر بھی اُس کی مشکل سمجھ گیا تھا پھر دن پر دن گزرتے گے اور کچھ نہ ہوا باقر عاطف سے یہ بات کھل کے کر نہیں سکتا تھا جو بھی تھا شمع اُس کی بیوی رہی تھی اور عاطف جو اب شمع کا شوہر تھا اُس کا چھوٹا بھائی تھا۔ شمع جس سے وہ کھل کے بات کر سکتا تھا اور جس کو وہ بولتا بھی تھا ہر روز وہ ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔
باقر نے بہت سوچا پھر اُس کو اس مسلہ کا ایک ھل ملا اُس نے فجیرہ ( آمارات کی ایک ریاست کا نام ہے جو ایک ہل سٹشین ہے) میں ایک ہوٹل روم سات دن کے لیے بک کیا اور شمع کو بولا تم عاطف کو لے کر اُدھر چلی جاو وہاں جا کر ماحول بدلے گا تو تم لوگوں کے لیے آسان ہو جائے گا شمع نے جب عاطف سے بات کی تو پہلے تو وہ بدک گیا لکین آخر کار مان ہی گیا۔بچوں کو بتایا کے امی اور چچا کچھ ضروری کام کے لیے کہیں جا رہے ہیں ساتھ دن کے لیے۔
ُ
وہ لوگ شام کو ہوٹل میں پہنچ گے اپنا سامان روم رکھنے کے بعد کھانا کھانے کے لیے باہر نکل آئے رات کو جب وہ ہوتل پہنچ تو کمرے میں کافی سردی تھی کچھ تو موسم بھی اچھا تھا اور اُپر سے اے سی چل رہا تھا ۔ اب بیڈ پر کمبل بھی ایک ہی تھا عا طف کپرے بدل کر بغیر کمبل کے ہی صوفے پر لیٹ گیا شمع بولی
سردی ہے ادھر ہی آ جاو
عاطف کو بھی محسوس ہو چکا تھا کے کمبل کے بغیر گزارا نہیں وہ اُٹھا اور بیڈ کی ایک سائیڈ پر کمبل کے اندر لیٹ گیا ۔ شمع سوچ رہی تھی کے اب کیسے وہ کرے اُس کو باقر نے عجیب حالات میں پھنسا دیا تھا اُس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا ۔ پھر اُس نے کمرے کی لائیٹ بند کر دی اور دوسرئ طرف سے وہ
بھی کمبل میں گھس گئی پھر کچھ دیر رکنے کے بعد اُس نے جان بوجھ کر اپنے جسم کا پچھلا حصہ عاطف کے بیک کے ساتھ لگا دیا کچھ دیر تک کو ئی ریکشن نہ ایا تو اُس نے ایسے جیسے سوتا بندہ کروٹ لیتا ہے ویسے ہی کروٹ لی اور عاطف کو پیچھے سے گلے لگا لیا اب اُس کے جسم کا اگلا حصہ عاطف کے جسم کے پچھلے حصہ سے چپکا ہوا تھا ور اُس کی بازو عاطف کے اُپر تھی
دوسری طرف اب جوبھی تھو عاطف تھا تو ایک جوان مرد ہی وہ جاگ رہا تھا اور اُس کے لیے اب یہ سب برداشت کرنا بہت مشکل ہو گیا تھا وہ ایک جھٹکے سے اُٹھا تبی شمع نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولی۔
کیوں کر رہے ہو ایسا جب تم کو پتہ ہے کے ہم کو یہ کرنا ہی پڑے گا اور کوئی چارہ نہیں ہے ۔
عاطف نے دوسری طرف منہ کر کے ہی بولا۔ بھا۔۔۔۔۔۔ وہ شائید بھابی کہتے کہتے رکا تھا شمع سمجھ گئی وہ بولی ۔
عاطف اب جب تک ہم ایک دوسرے کے نکاح میں ہے میں تماری بیوی ہو اس میں کچھ غلط نہیں ہے ۔
لکین میرے سے نہیں ہو پائے گا یہ سب۔ عاطف نے جواب دیا
اچھا تم ایک منٹ لیٹ جاو ۔شمع نے اُس کو لیٹاتے ہوئے بولا
پھر وہ لیٹ گیا تو شمع نے اُس کے ساتھ لگ کر ایک ہاتھ اُسکے سینے پر رکھا اور ایک ٹانگ اُس کی ٹانگوں پر اور بولی۔
تم کیا سمجھتے ہو میرے لیے یہ سب کرنا کیا آسان ہے لکین اب جب خالات نے ہم کو اس چکر میں ڈال دیا ہے تو کیا کر سکتے ہیں۔ شمع نے یہ بولا اور عاطف کے گال پر چوم لیا عاطف کے تو مانو کانٹے نکل آئے ہوں بیڈ پر ایک دم اُٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا شمع شرمندگی کے ساتھ بیٹھ کر رونے لگی اُس کو سمجھ نہیں آرہی تھی کیا کرے کیوں کے اُس نے اپنی ساری شرم ایک طرف رکھ کر بڑی ہمت کر کے اپنا قدم بڑایا تھا لکین اب تو وہ اپنی نظروں میں بھی گر گئ تھی عاطف اُس کو ٹھکرا کر چلا گیا تھا۔
وہ ابھی رو ہی رہی تھی کے کمرے کا دروازا واپس کھلا اور عاطف اندر آیا وہ سیدھا بیڈ کی طرف آیا اور آتے ہی اُس نے شمع کو پکڑا اور لیٹا کر چومنا شروع کر دیا۔
پھر اُس نے شمع کی شلوار کو ہاتھ ڈالا اور شلوار کو کھینچ کر نییچے کر دیا
پھر اپنا پجامہ بھی تھوڑا نیچے کر دیا شمع کو اُس کا لن اپنی چوت پر محسوس ہوا کچھ بھی تھا دونوں انسان ہی تھے اب اُن کی سانسوں بڑھنے لگی تھی وہ اب دونوں ہی تیار تھے۔ اس لمھے دونوں صرف ایک دوسرے سے ایک چیز چاہتے تھے اور وہ تھی چدائی۔
عاطف نے اپنا لن پکڑ کر شمع کی چوت پر رگڑا اور شمع کی چوت کافی گیلی ہو چکی تھی عاطف نے لن کو سوراخ پر اندازے سے رکھا اور جٹھکا مارا لن پھسل کے سائیڈ پر ہو گیا کمرے میں اندھیرہ تھا اور ویسے بھئ عاطف نے کمبل اُپر لے لیا تھا ۔عاطف واپس ایک ٹرائی کی لکین پھر نکام ہوا وہ کانپ رہا تھا ۔ شمع نے اُس کو روکا پھر اُس نے ہاتھ اندر کر کے اُس کا لن پکڑا اور چوت کے سوراخ پر رکھ دیا ۔ عاطف نے اس بار دھکا مارا تو لن گہرائی میں آُترتا چلا گیا شمع کے منہ سے ایک سسکاری نکل گئی ۔
باقر دونوں بچوں کی پئدئیش کے بعد بہت کم سکسس کرتا تھا اور اب تو با یہاں تک آ چکی تھی کے کئی کئی مہنے وہ شمع کو چھوتا تک نہین تھا اور جب کبھی چھوتا تھا تو بھی اُس کے لن میں اب وہ دم نہیں رہا تھا۔
شمع کو عاطف کا لن جوانی کی یاد دلانے لگا جب اُس کی باقر کے ساتھ نئی نئی شادی ہوئی تھی ۔ عا طف اب دھکے مار رہا تھا اور شمع نے اُس کو اپنے بازو میں گھیرا ہوا تھا روم میں اُن دونوں کی آوازیں اور پچک پچک دھک دھک کی آواز کھو نج رہیں تھی شمع نے اپنی ٹانگوں کو اُٹھایا اور اور عاطف کی کمر پر رکھ دیا عاطف اب زور زور سے چدائی کر رہا تھا ۔
شمع نے عاطف کو زور سے جھکڑا اور اُس کے کندھے کو دنتوں سے کاٹ لیا اُس کو جب بھی اُرگیزم ہوتا تھا وہ یا تو ناھن مارتی تھی باقر کو یا کاٹ لیتی تھی لیکن اب تو بہت ہی عرصہ ہو گیا تھا اس بات کو پچھلے دو تین سالوں سے شائید ہی شمع کبھی آرگیزم تک پہنچی تھی۔
جب وہ فارغ ہو چکی تو اُس اُس نے عاطف کو چھوڑا عاطف ابھی بھی لگا ہوا تھا اُس کا لن اب بہت ہی پھسل رہا تھا کیوں کے آرگیزم کے بعد شمع کی چوت میں اور زیادہ پانی آ گیا تھا شمع نے اُس کو روکا اور پھر اُس کو تھوڑا اُپر کر کے اپنی پوری شلوار جو اب صرف ایک ٹانگ پر تھی اُتار دی اور عاطف کا بھی پورا پاجامہ اُتار دیا جس میں عاطف نے اُس کی مدد کی لکین کمبل کو اُنھوں نے جسموں پر رہنے دیا ویسے بھی کمرے میں فل اندھیرہ تھا ۔ شمع نے اپنی شلوار سے اپنی چوت صاف کی ۔ اور عاطف کو واپس اشارہ کیا عاطف نے ایک بار پھر اپنا لن اُس کی چوت میں گھسا دیا۔ عاطف کوئی اگلے
دس پندرہ منٹ تک لگا رہا جس کے دروان شمع ایک بار اور فارغ ہو چکی تھی پھر عاطف نے اپنا پانی شمع کی چوت میں چھوڑنا شروع کر دیا ۔
تھوڑی دیر بعد عاطف ایک طرف کو منہ کر کے لیٹ گیا اُس کو اچھا تو لگا تھا مزا بھی آہا تھا لکین اُس کو عجیب شرمندگی بھی محسوس ہو رہی تھی۔
دوسری طرف شمع بہت ہی سکون میں تھی اُس بہت عرصہ بعد جسمانی خوشی نصیب ہوئی تھی۔
صبع شمع کی آنکھ کھلی تو عاطف روم میں نہیں تھا اور شمع کے موبئیل کی بیل بج رہی تھی۔ اُس نے نمبر دیکھا باقر کا فون تھا
باقر نے اُس کو پوچھا یوا کچھ ۔
شمع نے کچھ سوچتے ہو ئے بولا۔ نہیں آج تو کچھ نہیں ہوا لکین فکر نہیں کرو میری بات ہو گئی ہے وہ مان گیا ہے کے ساتویں دن کر دے گا ۔
باقر بولا۔ کیوں ساتویں دن کیوں۔
شمع بولی۔ یہ سب تماری ہی وجہ سے ہو رہا ہے ۔ ان یہ سب کرنا ہمارے لیے اتنا آسان نہیں ہے اگر اتنی جلدی ہے تو خود اپنے بھائی کو فون کر بولو کے کر دے۔
باقر بولا۔ اچھا چلو چھوڑو لکین پلیز اب یہ کام کر کے ہی واپس آنا اگر اب نہ ہوا تو پھر کبھی نہیں ہو گا
شہمع بولی۔ کوشش کر رہی ہو نا میں تم بے فکر رہو۔
اُس نے فون بند کر دیا۔
وہ بیڈ سے اُٹھی اور پھر اُس نے کمبل پیچھے کیا اور اپنی شلوار ڈھونڈ کر پہنی ۔ تبی عاطف اندر آیا ۔ وہ اُس کو دیکھ کر شرما گیا تھا۔
شمع کیوں کے کافی مچیور تھی اس لیے وہ جلدی سنھبل گئی تھی۔
وہ بولی کدھر تھے۔
عاطف بولا ۔ ناشتے کا آرڈر دے کر آیا ہوں۔
شمع بولی۔ باقر کا فون آیا تھا اور میں نے بولا ہے کے ۔۔۔۔۔۔۔ ابھی کچھ نہیں ہوا
عاطف نے سر ہلا دیا شمع ہوش ہو گئی یعنی عاطف بھی وہی چاہتا تھا جو وہ چاہتی تھی۔
اُس کو دکھ بھی ہوا کے اُس نے باقر سے جھوٹ بولا لکین اس سب چکر میں پھنسی بھی تو اُس کی وجہ سے تھی اور عاطف اب اُس کا شوہر تھا۔ اس لیے اۃس کے ساتھ سکسس کرنا کوئی بری بات نہیں تھی وہ اندر سے
مطمین ہو گئی ۔وہ سوچ رہی تھی اگر جائز طریقے سے وہ اپنے جسم کی آگ کو کچھ اور دن ٹھنڈا کر سکتی ہے تو مسلئہ کیا ہے۔